Aid Islam LogoAid Islam

اردو آرٹیکل

اسلام کے پانچ ستون
تقریباً ۱۵ منٹ پڑھیں
ستون، ایمان، عبادت، طرز زندگی
پرانی کتابوں کا مجموعہ

اسلام ایک مکمل طرز زندگی ہے جو پانچ بنیادی ستونوں پر قائم ہے۔ یہ ستون ہر مسلمان پر فرض ہیں۔ یہ محض چند مذہبی رسومات نہیں ہیں، بلکہ ایک مسلمان کی روحانی، اخلاقی، سماجی اور ذاتی زندگی کو تشکیل دینے والا ایک مربوط ڈھانچہ ہیں۔ ان ستونوں پر عمل پیرا ہو کر، ایک مسلمان اللہ کے سامنے اپنے آپ کو سپرد کرتا ہے، اپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے، اور ایک منصفانہ اور ہمدرد معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

۱. شہادت (ایمان کا اقرار)

شہادت اسلام کا پہلا اور سب سے اہم ستون ہے۔ یہ زبان اور دل سے اس بات کی گواہی دینا ہے کہ "اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔" یہ سادہ لیکن گہرا بیان اسلامی عقیدے کی بنیاد ہے، اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • توحید (اللہ کی وحدانیت): "لا إله إلا الله" - یہ حصہ اللہ کی وحدانیت کا اعلان کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کائنات کا واحد خالق، پالنے والا اور قانون ساز اللہ ہے۔ صرف وہی عبادت، دعا اور بھروسے کے لائق ہے۔ یہ عقیدہ ایک مسلمان کو ہر قسم کے جھوٹے معبودوں اور شرک سے آزاد کرتا ہے۔
  • رسالت (پیغمبری کا اقرار): "محمد رسول الله" - یہ حصہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا آخری اور عظیم ترین پیغمبر تسلیم کرنے کا اقرار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کا دکھایا ہوا راستہ اور مثال انسانیت کے لیے اللہ کی طرف سے منتخب کردہ حتمی زندگی کا طریقہ ہے، اور ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے مترادف ہے۔

پختہ یقین اور خلوص کے ساتھ شہادت کا اقرار کر کے ایک شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک زبانی اعلان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عہد ہے جو فرد کی پوری زندگی کو اللہ کی رضا کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔

۲. صلاۃ (نماز)

صلاۃ اسلام کا دوسرا ستون اور سب سے اہم جسمانی عبادت ہے۔ یہ ایک مقررہ طریقے سے، مقررہ اوقات پر دن میں پانچ بار ادا کی جانے والی فرض نماز ہے۔ یہ پانچ نمازیں ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب، اور عشاء۔ نماز کے دوران دنیا بھر کے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف رخ کرتے ہیں، جو امت مسلمہ کے اتحاد اور نظم و ضبط کی ایک منفرد علامت ہے۔

"بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔" (سورۃ طہ، ۲۰:۱۴)

صلاۃ بندے اور اس کے رب کے درمیان براہ راست گفتگو کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ بندے کو دن میں پانچ بار اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے، جہاں وہ شکر ادا کر سکتا ہے، توبہ کر سکتا ہے، اور ہدایت مانگ سکتا ہے۔ نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، جو اس کے اخلاقی کردار کی تعمیر میں معاون ہے۔

۳. زکوٰۃ (واجب صدقہ)

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا ستون ہے اور یہ ایک مالی عبادت ہے۔ 'زکوٰۃ' کے لفظی معنی پاکیزگی اور بڑھوتری ہیں۔ اصطلاحی طور پر، یہ مسلمانوں پر ان کی دولت کے ایک مخصوص حصے (عام طور پر 2.5٪) کو غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا لازمی عمل ہے۔ یہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جس کی دولت 'نصاب' (شریعت کی مقرر کردہ کم از کم رقم) سے زیادہ ہو اور اس پر ایک سال گزر چکا ہو۔

زکوٰۃ کا بنیادی مقصد مال کو پاک کرنا، معاشرے میں معاشی عدم مساوات کو دور کرنا اور غریبوں کے تئیں امیروں میں ذمہ داری کا احساس بیدار کرنا ہے۔ یہ مسلم معاشرے میں باہمی تعاون اور بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔ زکوٰۃ ادا کر کے، ایک مسلمان اپنے دل سے دولت کے لالچ اور کنجوسی جیسی بیماریوں کو دور کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ تمام دولت بالآخر اسی کی عطا کردہ ایک نعمت ہے۔

۴. صوم (رمضان میں روزہ)

اسلامی قمری کیلنڈر کے نویں مہینے، رمضان میں روزہ رکھنا اسلام کا چوتھا ستون ہے۔ 'صوم' یا روزہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے، جنسی تعلقات اور تمام برے کاموں سے پرہیز کرنا ہے۔

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔" (سورۃ البقرۃ، ۲:۱۸۳)

روزہ صرف ایک جسمانی مشق نہیں ہے، یہ ایک گہری روحانی مشق ہے۔ اس کے ذریعے، ایک مسلمان تقویٰ یا اللہ کا خوف حاصل کرتا ہے۔ روزہ انسان کو ضبط نفس، صبر اور ہمدردی سکھاتا ہے۔ دن کے وقت بھوک اور پیاس محسوس کر کے، ایک روزہ دار غریب اور بھوکے لوگوں کی تکلیف کو سمجھ سکتا ہے، جو اسے مزید سخی اور ہمدرد بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ رمضان کا مہینہ قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اس لیے اس مہینے میں مسلمان خاص طور پر عبادت، قرآن کی تلاوت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

۵. حج (مکہ کا سفر زیارت)

حج اسلام کا پانچواں ستون ہے۔ ہر جسمانی اور مالی طور پر استطاعت رکھنے والے مسلمان مرد اور عورت پر زندگی میں کم از کم ایک بار مقدس شہر مکہ کا سفر کرنا فرض ہے۔ یہ اسلامی کیلنڈر کے بارہویں مہینے، ذی الحجہ کے مقررہ دنوں میں ہوتا ہے۔

حج دنیا بھر سے لاکھوں مسلمانوں کو ایک ہی جگہ جمع کرتا ہے، جہاں نسل، قبیلے، زبان یا سماجی حیثیت کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ سب ایک ہی طرح کے سفید کپڑے (احرام) پہنتے ہیں اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، جو اللہ کی نظر میں تمام انسانوں کی مساوات اور امت مسلمہ کے عالمی بھائی چارے اور اتحاد کا ایک طاقتور پیغام دیتا ہے۔ حج کی مختلف رسومات، جیسے طواف، سعی، میدان عرفات میں قیام، قربانی وغیرہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہیں اور بندے کو اللہ کے سامنے غیر مشروط اطاعت کی تعلیم دیتی ہیں۔

خلاصہ

اسلام کے یہ پانچ ستون الگ الگ رسومات نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور یہ سب مل کر ایک مسلمان کی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلانے کے لیے ایک مکمل ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔ شہادت ایمان کا اعلان کرتی ہے، صلاۃ اس ایمان کو عمل میں بدلتی ہے، زکوٰۃ معاشرے کو معاشی تحفظ فراہم کرتی ہے، صوم روح کو پاک کرتا ہے، اور حج امت مسلمہ کے اتحاد کو مجسم کرتا ہے۔ ان ستونوں پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہو کر ہی ایک مسلمان دنیا اور آخرت میں حقیقی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔